12 ستمبر 2026 - 11:23
سہ فریقی دفاعی معاہدہ یمن کی دیوار سے جا ٹکرایا - 1

ایسے حال میں کہ "معاہدہ مکہ" کو وسیع پروپیگنڈے کے ساتھ خطے کے خطرات کے مقابلے میں ایک طاقتور دفاعی اتحاد کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، یمن کی جاری صورت حال نے اس معاہدے کے نفاذ کو چیلنج کر دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || گذشتہ مہینوں کے دوران سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو وسیع میڈیا پروپیگنڈے کے ساتھ اس انداز میں تشکیل دیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملے کی صورت میں، اس ملک کی فوجی معاونت کریں گے؛ تاہم لگتا ہے کہ یمن کی جنگ کی نئی صورت حال  نے اس فوجی معاہدے کو دھویں میں تبدیل کر دیا ہے۔

بی بی سی نے بھی اس معاہدے کے حق میں زوردار تشہیری مہم کا حصہ بن کر اس معاہدے کو نمایاں کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا، لیکن اب اس معاہدے کے عدم نفاذ کے لئے بہانہ تراشی کا سہارا لئے ہوئے ہے۔

برطانوی حکومت کے اس ذریعے نے سوال اٹھایا ہے کہ "کیا پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لئے جنگ میں داخل ہوگا؟" اور لکھا ہے: "پاکستانی حکومت مشکل صورتحال میں ہے۔ ایک طرف، مکہ کے دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مشترکہ دفاع کے سلسلے میں وعدے ہیں اور دوسری طرف اس سلسلے میں کوئی بھی اقدام ممکنہ طور پر پاکستان کو داخلی کشیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔ معاہدہ 'مکہ' کے مطابق ان ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ سمجھا جائے گا۔"

اس ذریعے نے مزید کہا: "پاکستان کے اندر بھی وسیع پیمانے پر ایران اور فلسطینی کاز کے لئے حمایت موجود ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کی جانب سے ایران کی حمایت یافتہ یمنی افواج اور انصار اللہ کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی پاکستان کی حکومت کے لئے داخلی الجھن کا باعث بن سکتی ہے۔"

بی بی سی نے ـ معاہدے کے تیسرے فریق ـ ترکیہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: "اسی وقت معاہدہ 'مکہ' کی دیگر رکن 'ترکیہ' کی وزارت خارجہ، نے ایک اطلاع میں سعودی عرب پر یمن کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعلان کیا ہے؛ تاہم اس نے معاہدہ 'مکہ' کو فعال کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔"

بی بی سی نے خود ہی سوال اٹھایا ہے کہ "لیکن کیا پاکستان انصار اللہ پر حملہ کر سکتا ہے؟" اور خود ہی اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ "نظری طور پر پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لئے جنگ میں داخل ہو سکتا ہے؛ تاہم معاہدہ 'مکہ' لازمی طور پر پاکستان کو یمن پر براہ راست حملے کا پابند نہیں بناتا۔ پاکستان کے داخلی تحفظات اور تہران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی اس کی کوششوں کے پیش نظر، اس ملک کا حوثیوں کے ٹھکانوں پر براہ راست حملہ، ممکنہ طور پر بالکل آخری آپشن ہوگا، نہ کہ پہلا ردعمل۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: امیر حمزہ نژاد

ترجمہ اور تکمیل: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha